انس سرور ” کنگ میکر ” پاکستان کا فخر

Spread the love

 :ان سائیڈ اسٹوری

 نسل پرستانہ بدسلوکی کا سامنا کرینگے۔ ہم لڑیں گے،گھر نہیں چھوڑیں گے۔ زندگی کا یہ سب سے  بڑا  سبق تھا جو اک ماں نے اپنے بیٹے کو پڑھایا۔ بیٹا ثابت قدم رہا۔ برداشت کرتا رہا اور آگے بڑھتا رہا۔ اب وہ اک ” کنگ میکر ” کا روپ دھار چکا ہے۔

یہ کہانی ہے 40 سالہ انس سرور کی۔ جو سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے فرزند ہیں۔ انس سرور اسکاٹ لینڈ میں لیبر پارٹی کے سربراہ ہیں۔ شعبہ کے لحاظ سے دندان ساز ہیں۔

چوہدری سرور خود بھی مسلم فرینڈ آف لیبر کے بانی چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ پاکستان پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے برطانیہ منتقل ہونے والے چوہدری سرور کو ہاوس آف کامنز کی تاریخ میں پہلا مسلمان رکن ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

کہانی شروع ہوتی ہے گلاسکو کے اک گھر سے۔ سرور فیملی کو نسل پرستانہ بدسلوکی کا سامنا ہے۔ تاہم خاندان ہمت نہیں ہارتا۔ یہی سبق ماں بیٹے کو دیتی ہے کہ ہمیں ہمت نہیں ہارنی۔

 برطانوی اخبار ” دی ٹائمز ” میں چھپے اک مضمون کے مطابق  انس سرور نے ایسا ہی کیا۔ پہلے پہل تو وہ بطور سیاستدان ہچکچاہٹ کا شکار ہوئے۔ پھر انھوں نے دو سال کے اندر ہی اسکاٹ لینڈ میں لیبر پارٹی کی قسمت بدل دی اور لیبر پارٹی کیلئے ڈاؤننگ اسٹریٹ میں داخل ہونے کا موقع بن گیا۔

مضمون نگار کے مطابق  ایسے آدمی کے لئے جو ایک بار سوچتا تھا کہ دندان سازی کا شعبہ کیمونٹی کی خدمت کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ کمیونٹی کیلئے انکی اتنی خدمت کافی ہوگی تاہم اب وہ اگلا وزیر اعظم بننے کے لیے تیار ہیں۔

سرور برطانیہ کی مرکزی دھارے کی سیاسی جماعت کی قیادت کرنے والے پہلے مسلمان ہیں۔

40 سالہ سرور، جو پہلے سابق وزیر نکولا سٹرجن کے حلقے میں رہتے ہیں۔ انس سرور جب  فروری 2021 میں سکاٹش لیبر لیڈر منتخب ہوئے تو جماعت  نویں نمبر پر تھی۔ ہزار سال بعد اس عہدے پر پہلا شخص جو رنگی بنیاد پر مختلف تھا اسکو لیبر پارٹی کا بحران وراثت میں ملا۔ لیبر پارٹی تنزلی کا شکار تھی۔

تاہم انس سرور کی دو سالہ قیادت میں ہی وقت تیزی سے بدل گیا۔ سنڈے ٹائمز کے سروے میں پارٹی کو 30 فیصد پر دکھایا گیا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کی 57 میں سے 42 سیٹیں پارٹی کے پاس ہیں۔

انس سرور ملنسار ہیں، سادہ ہیں، مسائل سے آگاہ ہیں اور انکو حل کرنے میں پوری دیانتداری ،محنت اور لگن سے کام کرتے ہیں۔ پارٹی کے دیگر رہنماوں سے دوستیاں بھی ہیں لیکن جہاں اصولی اختلاف ہو وہاں کھل کر اظہار بھی کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ بطور ٹیم کام کرنے والے افراد کا تاثر یہ ہے کہ انس سرور اک کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں۔ قابل اعتماد ہیں۔ پارٹی کے اندر بحرانوں کو انھوں نے ختم کیا ہے۔

لگن اور عملیت پسندی کے ساتھ اپنے مقصد کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انکا ماننا ہے کہ اکیلے آپ لوگوں کی زندگیاں نہیں بدل سکتے۔ ان کیلئے آسانیاں نہیں پیدا نہیں کر سکتے۔ گروپس کے دباو کے باوجود اقتدار کا حصول ضروری ہے۔ اقتدار ہوگا تو پھر ہی لوگوں کی زندگیوں میں بہتری کی عملی صورت نکالی جاسکے گی۔

قدامت پسند خیالات کی نفی کرتے ہوئے انس سرور نئی سوچ کیساتھ قدم اٹھا رہے ہیں۔ ” دی ٹائمز ” کے مضمون میں  توقع کی جا رہی ہے کہ جس طرح انس سرور متحرک ہیں وہ اک کنگ میکر ثابت ہونگے۔

سات سمندر پار جو پودا چوہدری سرور نے لگایا تھا وہ اب تناور درخت بن چکا ہے۔ جس کی زندگی کا مقصد  لوگوں کی بہتری ہے۔ یہ یقینا پاکستان کیلئے بھی فخر کی بات ہے کہ اس مٹی کے سپوت کا وارث تمام تر نسل پرستانہ بدسلوکی اور تعصب کو نظر انداز کئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بحرانوں سے نکل رہا ہے اور کامیابی کے جھنڈے گاڑھ رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*