ماہ اکتوبر اور نومبر: پاکستان میں ہونے والی انہونیاں

Spread the love

:  ”  تحریر ”  میاں محسن بلال  :

آرمی چیف کو حکومت نے شٹل کاک بنادیا ہے، آرمی چیف کا جیسے تقرر کیا جارہا ہے ایسے اسسٹنٹ  کمشنر بھی نہیں رکھا جاتا۔ اب زرا یہاں پر رکئے۔ چلتے ہیں 2019 کے ماہ اکتوبر اورنومبر میں۔ ملک کے آج کل جو سیاسی و معاشی حالات ہیں۔ جو کشیدہ صورتحال بنی ہوئی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں،انصاف کی مستندوں اور طاقت کے تخت پر براجمان ہر وہ شخص جو خود کو بااختیار اور طاقتور تصور کرتا ہے اپنے سائے پر بھی اگر آج اعتبار نہیں کر رہاتواس کی وجہ ان دو ماہ کے اندر رونما ہونے والے سیاسی اور ملکی سطح پر واقعات و تبدلیاں رہیں۔

مولانا فضل الرحمن کی جانب سے آزادی مارچ کا اعلان کیا جاتا ہے اور مطالبہ ہے عمران خان کی ناجائز حکومت کا خاتمہ۔ نواز شریف نیب کی حراست میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ کیپٹن صفدر نواز شریف کے پیغام رساں ہیں جومولانا فضل الرحمن تک انکی اہم ہدایت پہنچاتے ہیں۔ تاہم جب میڈیا سوال اٹھاتا ہے تو ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگ زیب سمیت مسلم لیگ کا ہررہنما تردید کرتا ہے ایسے کسی رابطے کی۔ نواز شریف کوٹ لکھپت جیل ہی ہوتے ہیں اورکیپٹن صفدرمولانا فضل الرحمن کا خط ان تک پہنچاتے ہیں،جواب میں نواز شریف مولانا فضل الرحمن کو خط لکھتے ہیں اور کیپٹن صفدر وہ مولانا فضل الرحمن تک پہنچاتے ہیں۔ ن لیگ کے رہنما تردید اس لئے کرتے ہیں کیونکہ پیپلزپارٹی کی طرح شہباز شریف بھی تذبذب کا شکار ہیں کہ وہ آزادی مارچ میں شریک ہوں یا نہ ہوں۔ تاہم نیب کورٹ لاہور پیشی کے موقع پر کیپٹن صفدر میڈیا کے سامنے پٹاری سے سانپ نکال دیتے ہیں اور ن لیگ کے کارکنان سے مخاطب ہوکر بتاتے ہیں کہ نواز شریف نے کہا ہے
‏جسے وطن سے پیار ہے وہ مولانا فضل الرحمن کے پیچھے چلے” نکلو سارے غزوہ ہند کیلئے ۔”

https://www.youtube.com/watch?v=_FLvq9CpB6c

مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو شروع ہونے سے ٹھیک 5 روز قبل یعنی 22 اکتوبر 2019 کو نیب حراست میں قائد مسلم لیگ ن کی اچانک رات کو طبعیت خراب ہوجاتی ہے۔ ہنگامی حالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ انکو فوری طو پرلاہورکے سروسز ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔
‏پھر شروع ہوتی ہے سابق وزیر اعظم کے پلیٹ لیٹس کبھی کم کبھی زیادہ ہونے کی بیماری۔


‏اکتوبر کی 27 تاریخ کو مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ کراچی سے شروع ہوتا ہے۔ لاہور پہنچتا ہے اور 30 اکتوبر کو خبر آتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن نواز شریف سے ملنے سروسز ہسپتال آ رہے ہیں تاہم اس دوران شہباز شریف اور خواجہ آصف سروسز ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ آدھا دن گزر جاتا ہے اور مولانا فضل الرحمن سروسز ہسپتال نہیں آتے۔ ملاقات منسوخ ہوجاتی ہے اور وجہ یہ بنائی جاتی ہے کہ ڈاکٹرز نے فضل الرحمان کو ملاقات کی اجازت نہیں دی۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ کیونکہ شہباز شریف اور خواجہ آصف ملاقات میں اس وقت زرائع کے مطابق رکاوٹ بنے۔ اس ساری صورتحال سے پہلے ایک ڈرامائی واقعہ ہوچکا ہوتا ہے، جس رات نواز شریف کی طبعیت خراب ہوئی اور انکو سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا اسی رات یعنی 22 اکتوبر 2019 کو اشتعال انگیز تقریر کے جرم میں کیپٹن صفدر کو لاہور سے گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ جو نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان کیا ڈھیل ہوئی ہے اور آزادی مارچ سے کیا حاصل کرنا ہے؟ ن لیگ کے کارکنان کیلئے نواز شریف کی مزید کیا ہدایت ہوگی؟ اس کا واحد زریعہ تھے۔

https://www.youtube.com/watch?v=pzN_xCxe3gI

‏30 اکتوبر2019 کومولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اسلام آباد پہنچ جاتا ہے اور وہاں پر دھرنا دیدیا جاتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن پلان اے،بی کا اعلان کرتے ہوئے 13 نومبر کو اپنا دھرنا ختم کردیتے ہیں اورعمران خان سے انکے استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دھرنا ختم کرانے میں وقت کے آرمی چیف جنرل باجوہ کی جانب سے بطور سہولت کار چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہی کردارادا کرتے ہیں۔ دھرنے ختم ہونے کے ٹھیک تین روز بعد یعنی 16 نومبر 2019کو چوہدری پرویز الہی جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں سلیم صافی کو انٹرویو دیتے ہیں ۔ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ مولانا سے کیا وعدہ کیا گیا توچوہدری پرویز الہی دو امانتوں کا انکشاف کرتے ہیں۔


‏دوسری جانب نوازشریف کے پلیٹ لیٹس ہیں کہ وہ نارمل ہونے میں ہی نہیں آرہے ہوتے۔ آج گیا یا کل،،، لمحہ بہ لمحہ یہی صورتحال بنائی جارہی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بطوروزیر صحت وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر سروسز ہسپتال کے چکر لگاتی ہیں اور نواز شریف کی بیماری پر میڈیکل بورڈ کیساتھ مسلسل مشاورت کے بعد تیار کردہ رپورٹ عمران خان کو پیش کرتی ہیں۔ نوازشریف کو 6 نومبر کو سروسز ہسپتال لاہور سے ڈسچارج کردیا جاتا ہے اور وہ جاتی امرا اپنی رہائش گاہ منتقل ہوجاتے ہیں جہاں سپیشل میڈیکل یونٹ بنایا جاتا ہے تاکہ انکا علاج معالجہ جاری رہے۔ اس سارے معاملے سے مریم نواز قطع تعلق ہرگز نہیں ہیں۔ تاہم وہ نیب کی حراست میں ہیں اور سزا کاٹ رہی ہیں۔ باپ بیمار ہوا تو بیٹی کو تیمارداری کا حق تو ہوتا ہے۔ مریم نواز 23 اکتوبر 2019 کو اپنے والد کی تیمارداری کیلئے پے رول پر سروسز ہسپتال آجاتی ہیں۔ انکی ضمانت کی درخواست دائر ہوتی ہے۔ پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ اور اسکے بعد لاہور ہائیکورٹ کی ضمانت کی درخواست منظور کرتی ہے۔


‏مریم نواز کی چوہدری شوگرملز مقدمے میں ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ ہائی کورٹ انہیں احتساب عدالت میں دو کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹ میں سات کروڑ روپے نقد جمع کروانے کی بھی ہدایت دیتی ہے ۔ساتھ یہ حکم بھی دیتی ہے کہ مریم نواز اپنا پاسپورٹ بھی جمع کرائے۔ 4 نومبر کو یہ سب ہوتا ہے۔ مریم نواز کی ضمانت تک نواز شریف سروسز ہسپتال رہتے ہیں ۔جب نواز شریف جاتی امرا منتقل ہوتے ہیں تو مریم نواز بھی انکے ہمراہ ہوتی ہیں۔


‏یہاں ایک چیز غور طلب ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے دھرنا ختم کرنے سے ٹھیک ایک روز پہلے یعنی 12 نومبر 2019 کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کابینہ کا اجلاس منعقد ہوتا ہے اور کابینہ وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں نواز شریف کا نام مشروط طور پر ” ای سی ایل ” یعنی ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ اکثریت رائے سے کرتی ہے اور چار ہفتوں کیلئے انکو علاج کیلئے باہر جانے کی اجازت دیتی ہے۔ حکومت ایک نوٹیفیکیشن جاری کرتی ہے۔ جس میں میں کہا گیا ہوتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف ’انڈمنٹی بانڈ‘ کے بدلے ملک سے جا سکتے ہیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف کو 7 ارب روپے کے ضمانتی بانڈ جمع کرانا ہوں گے۔ مسلم لیگ ن اس پر لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتی ہے لاہور ہائی کورٹ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو چار ہفتوں کے لیے بیرونِ ملک علاج کرانے کی اجازت دیتے ہوئے وفاقی حکومت کے میمورنڈم کو انڈیمنٹی بانڈز کی شرط کی حد تک معطل کرنے کا حکم دیتی ہے۔ شہباز شریف کی جانب سے پچاس روپے کا اسٹاپ جمع کرایا جاتا ہے جس میں یہ گارنٹی دی جاتی ہے کہ نواز شریف چار ہفتوں بعد علاج کرا کے پاکستان واپس آ جائیں گے۔

https://www.youtube.com/watch?v=mxbeZJ6PflkS‏16 نومبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کوعلاج کےلیےبیرون ملک جانے کی اجازت دے دی اور یوں نواز شریف 19 نومبر کوعلاج کیلئے لندن پہنچ گئے۔ وہی شہباز شریف جنہوں نے پچاس روپے کا حلف جمع کرایا وہ بعد میں وزیراعظم پاکستان بن گئے۔ نواز شریف کو انسانی بنیادوں پر لندن جانے کی اجازت دینی والی کابینہ کے سربراہ سابق وزیراعظم عمران خان اب عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔

https://www.youtube.com/watch?v=rAnFecGxhMc

‏آپ کو لگا کہانی یہی ختم ہوگئی کیا؟

‏نہیں۔۔۔ ابھی تو شروعات ہے۔ وزیراعظم عمران خان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا اعلان تین ماہ پہلے کرچکے ہوتے ہیں۔ وقت گزرتا ہے۔ نواز شریف لندن میں اپنا علاج کروا رہے ہیں۔ چار روز باقی ہیں، جنرل باجوہ کے ہاتھ چھڑی رہے گی یا نہیں۔ کیا ہونا ہے؟ اچانک پردہ اسکرین پر ” راہی کی انٹری ہوتی ہے” یہ راہی سلطان راہی نہیں بلکہ ” ریاض حنیف راہی” ہوتے ہیں۔ جو جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف سپریم کورٹ میں 25 نومبر بروز پیر کو درخواست جمع کراتے ہیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اپنی سربراہی میں تین رکنی بینچ بناتے ہیں۔ منگل کو چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس معاملے کی سماعت کرتاہے۔ ڈرامائی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
‏سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار ریاض حنیف راہی پیش نہ ہوئے اور ان کی جانب سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی تاہم عدالت نے اسے مفادِ عامہ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کیس کو از خود نوٹس میں تبدیل کر دیا۔


‏سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہوئِے جنرل باجوہ سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے۔ بدھ کے روز دوبارہ سماعت ہوئی۔ عدالت پھر مطمئن نہ ہوئی۔ اس دوران جو ریمارکس آتے رہے تین رکنی بینچ کی جانب سے اس سے یہی تاثر پھیلنے لگا کہ جنرل باجوہ بھی آج گئے یا کل؟ یا ایمرجنسی ۔۔۔؟ سب بوریا بستر لپیٹ لیں۔ پہلی سمری ٹھیک کرنے کی ہدایت۔ دوسرے روز سماعت میں بھی یہی کچھ۔ باہر حال 28 نومبر بروز جمعرات جنرل باجوہ کی مدت ختم ہونے میں چند گھنٹے ہی باقی ہوتے ہیں کہ سپریم کورٹ جنرل باجوہ کی ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع کا فیصلہ دیتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ جنرل باجوہ کی تقرری چھ ماہ کے لیے ہو گی اور اس کا اطلاق جمعرات 28 نومبر سے ہو گا۔

‏عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں یہ بھی کہا کہ دستور، آرمی ایکٹ 1952 اور آرمی رولز ریگولیشنز میں مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں۔ تاہم عدالت نے اس معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے پارلیمان پر چھوڑ دیا۔عدالت نے کہا ہے کہ اس ضمن میں وفاقی حکومت نے قانون سازی کرنے کا یقین دلایا ہے اور عدالت چھ ماہ بعد پیش رفت کا جائزہ لے گی۔ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بینچ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ قانون سازی نہ ہونے کی صورت میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اپنے عہدے سے سبکدوش تصور ہوں گے۔حکومت آرمی ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کرتی ہے۔ جسکو سات جنوری 2020کو کثرت رائے سے منظور کرلیا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی اس بل کی مخالفت نہیں کرتی۔ شام کو فیصل واوڈا کاشف عباسی کے پروگرام میں فوجی بوٹ میز پر رکھ دیتے ہیں۔ قمر زمان کائرہ شرمندہ ہوتے ہیں اور پروگرام سے احتجاجا اٹھ جاتے ہیں۔
‏2019کے اکتوبر اور نومبر میں شروع ہونے والے مقتدرہ کے کھیل کو 2020 کے اکتوبر،نومبر میں سمجھنے سے پہلے پنجابی زبان کے معروف شاعر منیر نیازی کی نظم کو پڑھ لیجئے

کس دا دوش سی کس دا نئیں
‏ ایہہ گلاں ہُن کرن دیاں نئیں
‏ ویلے لنگھ گئے توبہ والے
‏ راتاں ہوکے بھرن دیاں نئیں
‏ جو ہویا ایہہ ہونا ای سی
تے ہونی روکیاں رُکدی نئیں
اِک واری جدوں شروع ہو جاوے
گل فیر اینویں مُکدی نئیں

 

جی بالکل: جو ایک بار شروع ہوجائے وہ ہونی رکتی نہیں ہوکر ہی رہتی ہے۔ عمران خان اور جنرل باجوہ ایک پیج پر ہیں۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے رہنماوں کی گرفتاریوں کا عمل تیز ہوتا ہے۔ ستمبر 2020 کو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف گرفتار کر لئے جاتے ہیں۔ جس کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے 13 جماعتی اتحاد پی ڈی ایم کے نام سے وجود میں آتا ہے۔مولانا فضل الرحمن رہنما کو سربراہ چنا جاتاہے۔ شہباز شریف جیل میں ہیں۔ جبکہ مریم نواز سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔

Ae2tdPwUPEZBXe4ArTs3n9FaZKvvHJNZyamUNMuycAVeCc3SBQdnhHLQZHA

پی ڈی ایم پاکستان کے بڑے شہروں میں حکومت مخالف ریلیاں اور جلسے کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ دن آتا ہے 16 اکتوبر 2020 کا۔ گوجرانوالہ سٹڈیم میں پی ڈی ایم کا پہلا جلسہ ہے۔ لندن سے سابق وزیراعظم نواز شریف ویڈیو لنک پر اپنا دھماکے دار خطاب کرتے ہیں۔ متعدد بار جنرل باجوہ اور جنرل فیض کا نام لیکر انکو ملکی حالات کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ٹھہرے ہوئے پانی میں جیسے بھونچال آگیا ہو۔ نواز شریف کی تقریر چل رہی ہوتی ہے بلاول بھٹو پیپلزپارٹی کے رہنماوں کے ہمراہ اسٹیج سے نیچے اتر جاتے ہیں۔

https://www.youtube.com/watch?v=K4Y3FFlsKgQ

‏گوجرانولہ جلسے میں نواز شریف کی تقریر کی تپش کا اثر تھا کہ کراچی جلسے بعد مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر ہوٹل میں ٹھہرے ہوتے ہیں کہ 19 اکتوبر 2020 ہوٹل کے کمرے سے انکو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ آئی جی سندھ کے اغواء کی خبریں بھی گردش میں آتی ہیں۔ خیر بلاول بھٹو اس اقدام کو اپنی روایت کے منافی قراردیتے ہیں اور آرمی چیف جنرل باجوہ کو فون کرتے ہیں۔ سیکٹر کمانڈر کی تبدیلی ہوتی ہے اور کیپٹن صفدر رہا ہوتے ہیں عدالت سے۔ اس سال نومبر پورا پی ڈی ایم کے اجلاسوں اور جلسوں میں گزرتا ہے۔ ہر خطاب میں میاں نواز شریف انداز جارحانہ ہوتا ہے۔
‏وقت گزرتا ہے۔ راوی چین لکھ رہا ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کے وزرا ہر پریس کانفرنس میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ 2028 تک وہی ہیں۔ پی ڈی ایم کے رہنما حکومت میں آنے کے بس اب خواب دیکھیں۔
‏جس انہونی کا اوپر ذکر کیا ہے وہ بس ہونے والی ہے۔ اپنی انتہا پہنچنے والی ہے۔ پھر شروع ہوتا ہے اکتوبر 2021 ۔۔۔ تاریخ ہوتی ہے6 اکتوبر اور دن ہے بدھ کا۔ پنجابی کی کہاوت ہے کہ ” بدھ: کم سدھ” یعنی بدھ کے روز کام صیحح۔

https://twitter.com/mohsinsami85/status/1641501505357225984?s=20https://twitter.com/mohsinsami85/status/1641501505357225984?s=20

‏میڈیا پر خبر فلیش ہوتی ہے۔ آرمی میں بڑے اہم تبادلے۔ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید عہدے سے تبدیل۔ انکی جگہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو ڈی جی آئی ایس آئی کا عہدہ تفیض کردیا گیا۔ تاہم حکومت کی جانب سے جنرل ندیم انجم کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاتا۔ اسلام آباد میں مقتدر حلقوں اور اقتدار کے ایوانوں میں تناو بڑھ رہا ہے۔ ایک ہفتہ گزر جاتا ہے کوئی پیش رفت نہیں ہوتی۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ جو افغانستان میں امریکی انخلاء کے بعد خطے میں تبدیلی ہوئی ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے تسلسل رہے اور جنرل فیض تبدیل نہ ہوں۔ پھر آرمی چیف اور وزیراعظم کی ملاقاتیں ہوتیں ہیں۔ برف پگھلتی ہے۔ تاہم سیشے میں بال آچکا ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=0l_0NS7s68I

‏وزرات دفاع تین ناموں پر مشتمل افسران کی سمری وزیراعظم کو بھجواتی ہے۔ اطلاعات آتی ہے کہ وزیراعظم عمران خان انکے انٹرویوز کرینگے اور پھر نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔ باہر حال وزیراعظم کے سیکریٹری اعظم خان کے دستخط سے 20 روز بعد یعنی 26 اکتوبر 2021 کو نوٹیفکیشن جاری ہوتی ہے جس میں کہا گیا کہ ‘سمری کے چھٹے پیراگراف میں دیے گئے افسران کے پینل کو وزیراعظم نے دیکھا اور لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی تعیناتی کی منظوری دے دی’۔
‏مزید کہا گیا کہ ‘نوٹیفکیشن کا اطلاق 20 نومبر 2021 سے ہوگا’۔
‏آئی ایس آئی کے موجودہ ڈی جی 19 نومبر تک بطور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلیجنس اپنی خدمات جاری رکھیں گے’۔

https://www.youtube.com/watch?v=DtAhL3f_AcI

‏یہاں یہ بات نہیں بھولنی چاہئیے کہ ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کی تبدیلی کی خبر میڈیا پر فلیش آوٹ ہونے سے پہلے اسی روز یعنی چھ اکتوبر کو مریم نواز شریف نے لیفٹینٹ جنرل فیض حمید پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ درست ہے کہ کسی ایک فرد کی وجہ سے ادارے کا نام نہیں لینا چاہیے لیکن ‘جب فرد واحد ادارے کے پیچھے چھپتا ہے تو کیا وہ ادارے کے وقار میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ جس کے بعد انکی تبدیلی کا پروانہ جاری ہوا۔
‏چھ اکتوبر کے بعد تاریخ آگئی بیس نومبر کی اور ساتھ ہی تبدیلی کے بعد پی ڈی ایم کی سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہوگئی اور اپریل کو ۲۰۲۲ کو رجیم چینج آپریشن مکمل ہوا۔ عمران خان وزیراعظم ہاوس سے فارغ کردیئے گئے تحریک عدم کامیاب ہوگئی۔ سابق وزیر اعظم نے بنی گالہ کے بجائے لاہور اپنی رہائش گا زمان پارک میں ڈیرے جمع لئے۔

https://twitter.com/mohsinsami85/status/1635961434969350149?s=20

‏وسیم اکرم پلس عثمان بزدار کی جگہ حمزہ شہباز وزیراعلی پنجاب بنے جو ایک ماہ رہے اور چوہدری پرویز الہی انکی جگہ وزیراعلی پنجاب بن گئے۔
‏دوہزار انیس کے ماہ اکتوبر اور نومبر میں جو شطرنج کی جو بساط بچھائی گئی تھی۔ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے جو کہانی شروع ہوئی،نوازشریف کے پلیٹ لیٹس اور لندن روانگی کے بعد جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن کا سسپنس،رجیم چیج کے بعد ایک سیزن میں لے آتا ہے۔ جس پر غور کیجے۔


‏انتیس نومبر دوہزار بائیس کو اہم تعیناتی ہونی ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان زخم خوردہ ہیں۔ دوست دوست نہ رہا پیار پیار نہ رہا والا معاملہ ہوچکا ہے۔ 24 اکتوبر 202۲ کو کینیا میں معروف اینکر ارشد شریف کو گولیاں مار کر شہید کردیا جاتا ہے۔ یہی مناسب ہوتا ہے تاہم زمان پارک لاہور میں بیٹھ کر عمران خان 25 اکتوبر 2022 کو حقیقی آزادی مارچ کا اعلان کردیتے ہیں۔ جسکا آغاز 28 اکتوبر کو لبرٹی گول چکر سے ہونا تھا۔ تاہم حقیقی آزادی مارچ سے شروع ہونے سے ایک روز قبل ہی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کی پرائم ایجنسی کے سربراہ میڈیا کے سامنے نمودار ہوتے ہیں ساتھ انکے ڈی جی آئی ایس پی آر بھی ہیں۔ جنرل ندیم انجم نام نہ لئے بغیر” عمران خان کو فتنہ قرار دیتے ہیں۔ اتنی ہنگامی پریس کانفرنس کے بعد توقع یہی کی جاتی ہے کہ شاید عمران خان لانگ مارچ ملتوی کردیں مگر وہ ایسا نہیں کرتے۔ اگلے روز لبرٹی سے لانگ مارچ کا آغاز ہوتا ہے اور اپنے افتتاحی خطاب میں ہی عمران خان توپوں کا رخ ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب کرتے ہیں اور ساتھ میں جنرل فیصل نصیر کو بھی للکارتے ہیں۔ افواج پاکستان کی جانب سے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا بیان سامنے آچکا ہوتا ہے۔ عمران خان کا حقیقی لانگ مارچ کا قافلہ منزل کی جانب بڑھ رہا ہوتا ہے۔ حقیقی آزادی مارچ کا ساتواں روز ہے اور قافلہ جونہی وزیر آباد شہر میں داخل ہوتا ہے تو کنٹنر پر فائرنگ ہوتی ہے۔ عمران خان سمیت تحریک انصاف کے متعدد رہنما زخمی ہوتے ہیں۔ عمران خان کو شوکت خاتم ہسپتال لاہور لایا جاتا ہے۔ وہاں سے اسد عمر کا عمران خان کے حوالے سے ویڈیو بیان جاری ہوتا ہے کہ انکے قتل کی سازش کے پیچھے شہباز شریف ، رانا ثناء اللہ اور جنرل فیصل نصیر ہیں۔

https://www.youtube.com/watch?v=UEPrM8z0184

اس کے بعد بحث چل نکلتی ہے کہ اب تینوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگی یا نہیں؟ دال نہیں گلتی ۔ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی بھی بے بس ہوجاتے ہیں۔ عمران خان شوکت خانم ہسپتال سے زمان پارک منتقل ہوتے ہیں اور 6 نومبر کو لانگ مارچ کے دوسرے مرحلے کا اعلان کرتے ہیں۔ جسکو شاہ محمود قریشی اور اسد عمر الگ الگ شہروں سے لیڈ کرتے ہیں۔ 26 نومبر کو تحریک انصاف کے تمام کارکنان کو قافلوں کی صورت روالپنڈی پہنچنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔عمران خان زمان پارک میں ویڈیو خطاب میں کہتے ہیں کہ وہ چھبیس تاریخ کو اہم اعلان کریں گے جلسے میں۔ دو ہفتے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ جنرل باجوہ کو مدت ملازمت دوسری بار میں توسیع ملے گی یا پھر انکا منظور نظر ہی انکا جانشین بنے گا جسکا وہ نام وزیر اعظم شہباز شریف کو دینگے وہی آرمی چیف ہوگا۔ تاہم جی کا جانا ٹھہر گیا ہوتا ہے۔ بالآخر جنرل باجوہ یوم دفاع پاکستان کے سلسلہ میں 23 نومبر کو شہداء کی فیملیز سے خطاب کرتے ہیں جنکو مبصرین انکا الوداعی خطاب ہی سمجھتے ہیں۔

https://www.youtube.com/watch?v=1cV-R7X9o-A

وقت قریب آ رہا ہے۔ عمران خان چاہتے ہیں انکی مرضی چلے۔ حکومت اور ادارہ پریشر لے جائے اور وہ نہ ہو جسکا ڈر ہے۔ 25 نومبر کا دن انتہائی اہم ہے۔ اعصاب شکن۔ 26نومبر کو عمران خان کا خطاب ہونا ہے۔ وزارت دفاع نے آرمی چیف کی جانب سے نامزد کردہ ناموں کی سمری وزیر اعظم کو بھجوانی ہے۔ صرف 48 گھنٹے ۔ پھر آر یار پار۔ 25 سے 27 نومبر درمیان عمران خان 26 نومبر تقریر اور اہم اعلان۔ کیا ہوسکتا ہے کچھ بھی تو ہوسکتا ہے۔ ایمرجنسی بھی لگ سکتی ہے۔ جمہوری نظام کا بوریا بستر بھی گول ہوسکتا ہے۔
تاہم 21 نومبر کو وزیراعظم ہاوس میں آصف زرداری اور شہباز شریف کی اہم ملاقات ہوتی ہے۔ پہلے خبر لیک کی جاتی ہے کہ سمری میں پانچ نام ہیں تاہم 23 نومبر کو جو جنرل باجوہ اپنا الواداعی خطاب کرتے ہیں اس کے فوری بعد خبر آتی ہے کہ وزیراعظم شہباز جنرل حافظ عاصم منیر کے نام کی منظوری دیتے ہیں کہ وہ آرمی چیف ہونگے۔

https://www.youtube.com/watch?v=GL5qu6RQEwc

اب بال صدر پاکستان ڈاکٹر عارف کی کورٹ میں ہے۔ وہ سمری پر دستخط نہیں کرینگے۔
مرحلہ آن پہنچا ۔ خبر آتی ہے نکلا نام سمری میں داخل کرلیا گیا۔ 27 نومبر کو ریٹائر ہونے والے جنرل بھی آرمی چیف کی دور میں شامل۔ عمران خان نے جس مقصد کیلئے حقیقی لانگ مارچ شروع کیا۔لسٹ میں نام شامل نہ وہ مقصد حاصل نہ ہوپایا ۔ پہلی شکست ہوگئی۔ جب پچیس نومبر کو نام سمری میں آگیا تو چھبیس نومبر کو عمران خان نے روالپنڈی میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب اور کے پی کے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کردیا اور اسلام آباد چڑھائی ملتوی کردی. بلاول بھٹو دھمکی لگا چکے ہوتے ہیں کہ اگر صدر مملکت نے سمری پر دستخط نہ کئے تو پھر انجام اچھا نہیں ہوگا.

https://www.youtube.com/watch?v=PnEBABbpDnk

بلاول بھٹو دھمکی لگا چکے ہوتے کہ اگر صدر مملکت نے سمری روکی یا دستخط نہ کئے تو انجام اچھا نہیں ہوگا۔کیونکہ خبریں پھیلائی گئی ہوتی ہیں کہ عمران خان کی منظوری کے بغیر ڈاکٹر عارف سمری پر دستخط نہیں کرینگے۔ چوبیس نومبر کو ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم پہلے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرتے ہیں اور اسکے بعد ایوان صدر میں ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کرتے ہیں۔ ملاقات کے فوری بعد ڈاکٹر عارف خصوصی طیارے پر لاہور پہنچتے ہیں اور زمان پارک میں سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرتے ہیں۔ پھر یہی افواہ کہ صدر مملکت عمران خان کی اجازت لینے آئے ہیں کہ وہ آرمی چیف کی سمری پر دستخط کریں یا نہیں۔ اگر عمران خان منظوری نہیں دیتے تو پھر ڈاکٹر عارف علوی سمری روک لینگے۔ تاہم ہمارے زرائع کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ایوان صدر سے سمری پر دستخط کرکے ہی لاہور زمان پارک عمران خان سے ملاقات کے لئے آئے۔ بس انھوں نے چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کو اعتماد میں لیا۔


انیتس نومبر کو کمان کی تبدیلی ہوتی ہے۔ نئے آرمی چیف حافظ جنرل عاصم منیر اپنے عہدے کا حلف لیتے ہیں۔ جنرل باجوہ تقریب سے اپنا آخری خطاب کرتے ہیں اور جاتے جاتے کہتے ہیں کہ ‘ افواج پاکستان سے انکا روحانی تعلق رہے گا ‘ ۔ یوں اکتوبر ،نومبر دوہزار بائیس جو تبدلیاں ہوئیں ،راستہ روکنے کیلئےبھرپور زور لگایا گیا۔ ادارے کے اندر اور باہر جو سازشیں ہوئیں،جو بساط بچھائی گئی اس باب نو مئی دوہزار تئیس کو بند ہوا۔

https://www.youtube.com/watch?v=Ch3M6ZOjFiI

دوہزار انیس،بیس،اکیس اور بائیس کے ماہ اکتوبر و نومبر میں والے واقعات اور انکے نتیجے میں ہونے والی ملکی سطح پر سیاسی اور ادارہ جاتی تبدیلیوں کو سامنے رکھا جائے تو دوہزار تئیس کا ماہ اکتوبر و نومبر بھی اہم ہے۔ ان میں کچھ بڑا ہوسکتا ہے۔ جسکا نتیجہ مارچ یا اپریل  دوہزار چوبیس کو نکل سکتا ہے اور یوں ‘ پروجیکٹ ‘ اپنے احتتام کو پہنچ سکتا ہے۔ تاہم ہلچل  اس سلسلہ میں سمتبر 2023 کے شروع میں ہوگی اور سمتبر کے دوسرے ہفتے کی دو اہم  تبدلیاں اپنا اثردکھائیں گی۔

اب زرا اس تحریر کی شروع والی دو لائین زرا غور سے پھرپڑھ لیں۔
‘ آرمی چیف کی تعیناتی کوحکومت نے شٹل کاک بنا دیا ہے،آرمی چیف کا جیسے تقرر کیا جارہا ہے ایسے  اسسٹنٹ کمشنر بھی نہیں رکھا جاتا’۔ 

https://twitter.com/mohsinsami85/status/1631727802625007639/photo/2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*